یعقوب 19:1-27

یعقوب 19:1-27 UCV

اَے میرے عزیز بھائیوں اَور بہنوں! اِس بات کا خیال رکھنا کہ ہر آدمی سُننے میں تیز اَور بولنے اَور غُصّہ کرنے میں دھیما ہو۔ کیونکہ اِنسان کا غُصّہ وہ راستبازی پیدا نہیں کرتا جو خُدا چاہتاہے۔ چنانچہ اَپنی زندگی کی ساری ناپاکی اَور بدی کی ساری گندگی کو دُور کرکے اُس کلام کو حلیمی سے قبُول کر لو جو تمہارے دِلوں میں بویا گیا ہے اَورجو تُمہیں نَجات دے سَکتا ہے۔ صِرف کلام کے سُننے والے نہ بنو، بَلکہ کلام پر عَمل کرنے والے بنو۔ ورنہ تُم خُودی کو فریب دے رہے ہو۔ کیونکہ جو کویٔی کلام کو سُنتا ہے لیکن اُس پر عَمل نہیں کرتا وہ اُس آدمی کی مانند ہے جو آئینہ میں اَپنی صورت دیکھتا ہے۔ اَور خُود کو دیکھ کر چلا جاتا ہے اَور فوراً بھُول جاتا ہے کہ وہ کیسا دِکھائی دیتاہے۔ لیکن جو شخص آزاد کرنے والی کامِل شَریعت کا گہرائی سے غور کرتا اَور اُس پر قائِم رہتاہے تو وہ سُن کر بھُولنے والا نہیں بَلکہ اُس پر عَمل کرنے والا ہے۔ اَیسا شخص اَپنے ہر کام میں برکت پایٔےگا۔ اگر کویٔی شخص اَپنے آپ کو دیندار سمجھتا ہے مگر پھر بھی اَپنی زبان کو قابُو میں نہیں رکھتا تو وہ اَپنے آپ کو دھوکا دیتاہے۔ اَور اُس کا دین فُضول ہے۔ ہمارے خُدا باپ کی نظر میں حقیقی اَور بے عیب دینداری یہ ہے کہ مُصیبت کے وقت یتیموں اَور بیواؤں کی خبر لیں اَور اَپنے آپ کو دُنیا سے بے داغ رکھیں۔