۲-سموئیل 13:12-25 - تمام ورژن کا موازنہ کریں

۲-سموئیل 13:12-25 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)

تب داؤد نے اقرار کیا، ”مَیں نے رب کا گناہ کیا ہے۔“ ناتن نے جواب دیا، ”رب نے آپ کو معاف کر دیا ہے اور آپ نہیں مریں گے۔ لیکن اِس حرکت سے آپ نے رب کے دشمنوں کو کفر بکنے کا موقع فراہم کیا ہے، اِس لئے بت سبع سے ہونے والا بیٹا مر جائے گا۔“ تب ناتن اپنے گھر چلا گیا۔ پھر رب نے بت سبع کے بیٹے کو چھو دیا، اور وہ سخت بیمار ہو گیا۔ داؤد نے اللہ سے التماس کی کہ بچے کو بچنے دے۔ روزہ رکھ کر وہ رات کے وقت ننگے فرش پر سونے لگا۔ گھر کے بزرگ اُس کے ارد گرد کھڑے کوشش کرتے رہے کہ وہ فرش سے اُٹھ جائے، لیکن بےفائدہ۔ وہ اُن کے ساتھ کھانے کے لئے بھی تیار نہیں تھا۔ ساتویں دن بیٹا فوت ہو گیا۔ داؤد کے ملازموں نے اُسے خبر پہنچانے کی جرأت نہ کی، کیونکہ اُنہوں نے سوچا، ”جب بچہ ابھی زندہ تھا تو ہم نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن اُس نے ہماری ایک بھی نہ سنی۔ اب اگر بچے کی موت کی خبر دیں تو خطرہ ہے کہ وہ کوئی نقصان دہ قدم اُٹھائے۔“ لیکن داؤد نے دیکھا کہ ملازم دھیمی آواز میں ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ اُس نے پوچھا، ”کیا بیٹا مر گیا ہے؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”جی، وہ مر گیا ہے۔“ یہ سن کر داؤد فرش پر سے اُٹھ گیا۔ وہ نہایا اور جسم کو خوشبودار تیل سے مَل کر صاف کپڑے پہن لئے۔ پھر اُس نے رب کے گھر میں جا کر اُس کی پرستش کی۔ اِس کے بعد وہ محل میں واپس گیا اور کھانا منگوا کر کھایا۔ اُس کے ملازم حیران ہوئے اور بولے، ”جب بچہ زندہ تھا تو آپ روزہ رکھ کر روتے رہے۔ اب بچہ جاں بحق ہو گیا ہے تو آپ اُٹھ کر دوبارہ کھانا کھا رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے؟“ داؤد نے جواب دیا، ”جب تک بچہ زندہ تھا تو مَیں روزہ رکھ کر روتا رہا۔ خیال یہ تھا کہ شاید رب مجھ پر رحم کر کے اُسے زندہ چھوڑ دے۔ لیکن جب وہ کوچ کر گیا ہے تو اب روزہ رکھنے کا کیا فائدہ؟ کیا مَیں اِس سے اُسے واپس لا سکتا ہوں؟ ہرگز نہیں! ایک دن مَیں خود ہی اُس کے پاس پہنچوں گا۔ لیکن اُس کا یہاں میرے پاس واپس آنا ناممکن ہے۔“ پھر داؤد نے اپنی بیوی بت سبع کے پاس جا کر اُسے تسلی دی اور اُس سے ہم بستر ہوا۔ تب اُس کے ایک اَور بیٹا پیدا ہوا۔ داؤد نے اُس کا نام سلیمان یعنی امن پسند رکھا۔ یہ بچہ رب کو پیارا تھا، اِس لئے اُس نے ناتن نبی کی معرفت اطلاع دی کہ اُس کا نام یدیدیاہ یعنی ’رب کو پیارا‘ رکھا جائے۔

دوسروں تک پہنچائیں
۲-سموئیل 12 URDGVU

۲-سموئیل 13:12-25 URD (کِتابِ مُقادّس)

تب داؤُد نے ناتن سے کہا مَیں نے خُداوند کا گُناہ کِیا۔ ناتن نے داؤُد سے کہا کہ خُداوند نے بھی تیرا گُناہ بخشا۔ تُو مَرے گا نہیں۔ تَو بھی چُونکہ تُو نے اِس کام سے خُداوند کے دُشمنوں کو کُفر بکنے کا بڑا مَوقع دِیا ہے اِس لِئے وہ لڑکا بھی جو تُجھ سے پَیدا ہو گا مَر جائے گا۔ پِھر ناتن اپنے گھر چلا گیا اور خُداوند نے اُس لڑکے کو جو اورِیّاؔہ کی بِیوی کے داؤُد سے پَیدا ہُؤا تھا مارا اور وہ بُہت بِیمار ہو گیا۔ اِس لِئے داؤُد نے اُس لڑکے کی خاطِر خُدا سے مِنّت کی اور داؤُد نے روزہ رکھّا اور اندر جا کر ساری رات زمِین پر پڑا رہا۔ اور اُس کے گھرانے کے بزُرگ اُٹھ کر اُس کے پاس آئے کہ اُسے زمِین پر سے اُٹھائیں پر وہ نہ اُٹھا اور نہ اُس نے اُن کے ساتھ کھانا کھایا۔ اور ساتویں دِن وہ لڑکا مَر گیا اور داؤُد کے مُلازِم اُسے ڈر کے مارے یہ نہ بتا سکے کہ لڑکا مَر گیا کیونکہ اُنہوں نے کہا کہ جب وہ لڑکا ہنُوز زِندہ تھا اور ہم نے اُس سے گُفتگُو کی تو اُس نے ہماری بات نہ مانی پس اگر ہم اُسے بتائیں کہ لڑکا مَر گیا تو وہ بُہت ہی کُڑھے گا۔ پر جب داؤُد نے اپنے مُلازِموں کو آپس میں پُھسپُھساتے دیکھا تو داؤُد سمجھ گیا کہ لڑکا مَر گیا۔ سو داؤُد نے اپنے مُلازِموں سے پُوچھا کیا لڑکا مَر گیا؟ اُنہوں نے جواب دِیا مَر گیا۔ تب داؤُد زمِین پر سے اُٹھا اور غُسل کر کے اُس نے تیل لگایا اور پوشاک بدلی اور خُداوند کے گھر میں جا کر سِجدہ کِیا۔ پِھر وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے حُکم دینے پر اُنہوں نے اُس کے آگے روٹی رکھّی اور اُس نے کھائی۔ تب اُس کے مُلازِموں نے اُس سے کہا یہ کَیسا کام ہے جو تُو نے کِیا؟ جب وہ لڑکا جِیتا تھا تو تُو نے اُس کے لِئے روزہ رکھّا اور روتا بھی رہا اور جب وہ لڑکا مَر گیا تو تُو نے اُٹھ کر روٹی کھائی۔ اُس نے کہا کہ جب تک وہ لڑکا زِندہ تھا مَیں نے روزہ رکھّا اور مَیں روتا رہا کیونکہ مَیں نے سوچا کیا جانے خُداوند کو مُجھ پر رحم آ جائے کہ وہ لڑکا جِیتا رہے؟ پر اب تو وہ مَر گیا پس مَیں کِس لِئے روزہ کھُّوں؟ کیا مَیں اُسے لَوٹا لا سکتا ہُوں؟ مَیں تو اُس کے پاس جاؤں گا پر وہ میرے پاس نہیں لَوٹنے کا۔ پِھر داؤُد نے اپنی بِیوی بت سبع کو تسلّی دی اور اُس کے پاس گیا اور اُس سے صُحبت کی اور اُس کے ایک بیٹا ہُؤا اور داؤُد نے اُس کا نام سُلیَماؔن رکھّا اور وہ خُداوند کا پِیارا ہُؤا۔ اور اُس نے ناتن نبی کی معرفت پَیغام بھیجا سو اُس نے اُس کا نام خُداوند کی خاطِر یدِیدؔیاہ رکھّا۔

دوسروں تک پہنچائیں
۲-سموئیل 12 URD

۲-سموئیل 13:12-25 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)

تَب داویؔد نے ناتنؔ سے کہا، ”مَیں نے یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔“ ناتنؔ نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ نے بھی آپ کا گُناہ بخش دیا ہے اَور آپ نہیں مَریں گے۔ لیکن چونکہ آپ نے اِس کام سے یَاہوِہ کے دُشمنوں کو کُفر بکنے کا موقع دیا ہے اِس لیٔے وہ بیٹا جو آپ سے پیدا ہوگا مَر جائے گا۔“ اَور ناتنؔ کے اَپنے گھر لَوٹ جانے کے بعد یَاہوِہ نے اُس بچّہ کو مارا جو داویؔد کے یہاں اورِیّاہؔ کی بیوی کے پیٹ سے پیدا ہُوا تھا بیمار ہو گیا۔ اِس لیٔے داویؔد نے اُس بچّہ کی صحت یابی کے لیٔے خُدا سے اِلتجا کی اَور روزہ رکھا اَور اَپنے گھر کے اَندر جا کر ساری رات ٹاٹ پہن کر زمین پر پڑے پڑے رات گزاری۔ اَور اُس کے گھر کے بُزرگ اُسے زمین پر سے اُٹھانے کے لیٔے اُس کے پاس آ کھڑے ہُوئے لیکن اُس نے اُٹھنے سے اِنکار کر دیا اَور اُن کے ساتھ کھانا بھی نہ کھایا۔ اَور ساتویں دِن وہ بچّہ مَر گیا اَور داویؔد کے مُلازم اُسے بچّہ کی موت کی خبر دینے سے ڈر رہے تھے اَور آپَس میں کہہ رہے تھے، ”جَب وہ بچّہ زندہ تھا تو داویؔد کو ہماری کویٔی بات سُننا گوارا نہ تھی۔ اَب ہم اُسے کیسے بتائیں کہ وہ بچّہ مَر گیا ہے؟ ہمیں تو ڈر ہے کہ وہ یہ خبر سُن کر کچھ کر نہ بیٹھے۔“ جَب داویؔد نے دیکھا کہ اُس کے مُلازم آپَس میں کانا پھُوسی کر رہے ہیں تو وہ سمجھ گیا کہ بچّہ مَر چُکاہے۔ لہٰذا اُس نے خُود ہی پُوچھا، ”کیا بچّہ مَر گیا؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہاں وہ مَر چُکاہے۔“ تَب داویؔد زمین پر سے اُٹھا اَور اُس نے نہانے کے بعد تیل لگایا، کپڑے بدلے اَور یَاہوِہ کے گھر میں جا کر سَجدہ کیا۔ پھر وہ اَپنے گھر گیا اَور کھانا لانے کا حُکم دیا۔ اُنہُوں نے کھانا لاکر اُن کے سامنے رکھا اَور اُنہُوں نے کھایا۔ اُن کے مُلازموں نے اُس سے پُوچھا، ”آپ اَیسا کیوں کر رہے ہو؟ جَب وہ بچّہ زندہ تھا تو آپ نے روزہ رکھا اَور آنسُو بہائے اَور جَب کہ وہ بچّہ مَر چُکاہے تو آپ نے اَپنے آپ ہی اُٹھ کر کھانا بھی کھا لیا ہے!“ داویؔد نے جَواب دیا، ”جَب تک وہ بچّہ زندہ تھا مَیں نے روزہ رکھا اَور آنسُو بہائے کیونکہ مَیں نے سوچا، ’کون جانتا ہے کہ یَاہوِہ مُجھ پر مہربان ہو جائے اَور اُس بچّہ کو زندہ رہنے دے۔‘ لیکن اَب جَب کہ وہ مَر چُکاہے تو میں روزہ کیوں رکھوں گا؟ کیا میں اُسے پھر واپس لا سَکتا ہُوں؟ میں ہی اُس کے پاس جاؤں گا لیکن وہ لَوٹ کر میرے پاس نہیں آئے گا۔“ پھر داویؔد نے اَپنی بیوی بتشیبؔا کو تسلّی دی اَور وہ اُس کے پاس گئے اَور ہمبستر ہُوئے۔ اَور اُن کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہُوا اَور اُنہُوں نے اُس کا نام شُلومونؔ رکھا اَور وہ یَاہوِہ کو عزیز تھا۔ چونکہ وہ یَاہوِہ کو عزیز تھا اِس لیٔے خُدا نے ناتنؔ نبی کی مَعرفت پیغام بھیج کر اُس کا نام یدیدیاہؔ رکھا۔

دوسروں تک پہنچائیں
۲-سموئیل 12 UCV