لوقا 26:23-49
لوقا 26:23-49 اُردو ہم عصر ترجُمہ (UCV)
جَب فَوجی یِسوعؔ کو لیٔے جا رہے تھے، تو اُنہُوں نے شمعُونؔ کُرینی کو جو اَپنے گاؤں سے آ رہاتھا پکڑ لیا، اَور صلیب اُس پر رکھ دی تاکہ وہ اُسے اُٹھاکر یِسوعؔ کے پیچھے پیچھے لے چلے۔ لوگوں کا ایک بڑا ہُجوم آپ کے پیچھے ہو لیا، اَور ہُجوم میں کیٔی عورتیں بھی تھیں جو آپ کے لیٔے نوحہ اَور ماتم کر رہی تھیں۔ یِسوعؔ نے مُڑ کر اُن سے کہا، ”اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں! میرے لیٔے مت روؤ؛ بَلکہ اَپنے لیٔے اَور اَپنے بچّوں کے لیٔے روؤ۔ کیونکہ وہ دِن آنے والے ہیں جَب تُم یہ کہوگی، ’وہ بانجھ عورتیں مُبارک ہیں جِن کے رحم بچّوں سے خالی رہے، اَور جِن کی چھاتِیوں نے دُودھ نہیں پِلایا!‘ تَب ” ’وہ پہاڑوں سے کہیں گے، ”ہم پر گِر پڑو!“ اَور ٹیلوں سے، ”کہ ہمیں چھُپا لو!“ ‘ کیونکہ، جَب لوگ ہرے درخت کے ساتھ اَیسا سلُوک کرتے ہیں، تو پھر سُوکھنے درخت کے ساتھ کیا کریں گے؟“ دو اَور مُجرم آدمی بھی تھے جنہیں یِسوعؔ کے ساتھ لے جایا جا رہاتھا، تاکہ اُنہیں بھی قتل کیا جائے۔ جَب وہ سَب کھوپڑی نامی جگہ پر پہُنچے، تو وہاں اُنہُوں نے یِسوعؔ کو دو مُجرموں کے درمیان ایک کو آپ کے داہنی طرف، اَور دُوسرے کو بائیں طرف مصلُوب کیا۔ یِسوعؔ نے دعا کی، ”اَے باپ، اِنہیں مُعاف کر، کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کر رہے ہیں۔“ اَور اُنہُوں نے آپ کے کپڑوں پر قُرعہ ڈال کر آپَس میں تقسیم کر لیا۔ لوگ کھڑے کھڑے یہ سَب کُچھ دیکھ رہے تھے اَور رہنما لوگ بھی حُضُور پر طَعنہ کستے تھے اَور کہتے تھے، ”اِس نے اَوروں کو بچایا؛ اگر یہ خُدا کا المسیح، جو برگُزیدہ ہے تو اَپنے آپ کو بچالے۔“ سپاہیوں نے بھی آکر آپ کی ہنسی اُڑائی اَور پینے کے لیٔے آپ کو سِرکہ دیا۔ اَور کہا، ”اگر تو یہُودیوں کا بادشاہ ہے، تو اَپنے آپ کو بچالے۔“ حُضُور کے سَر کے اُوپر ایک نوشتہ بھی لگایا گیا تھا کہ یہ: یہُودیوں کا بادشاہ ہے۔ دو مُجرم جو مصلُوب کیٔے گیٔے تھے، اُن میں سے ایک نے یِسوعؔ کو لَعن طَعن کرتے ہویٔے کہا: ”اگر تو المسیح ہے؟ تُو اَپنے آپ کو اَور ہمیں بچا!“ لیکن دُوسرے نے اُسے ڈانٹا اَور کہا، ”کیا تُجھے خُدا کا خوف نہیں حالانکہ تو خُود بھی وُہی سزا پا رہاہے! ہم تو اَپنے جرائم کی وجہ سے سزا پا رہے ہیں، اَور ہمارا قتل کیاجانا واجِب ہے لیکن اِس اِنسان نے کویٔی غلط کام نہیں کیا ہے۔“ تَب اُس نے کہا، ”اَے یِسوعؔ! جَب آپ اَپنی بادشاہی میں آئیں تو مُجھے یاد کرنا۔“ یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”مَیں تُجھے یقین دِلاتا ہُوں کہ تو آج ہی میرے ساتھ فِردَوس میں ہوگا۔“ تقریباً دوپہر کا وقت تھا، کہ چاروں طرف اَندھیرا چھا گیا اَور تین بجے تک پُورے مُلک کی یہی حالت رہی۔ سُورج تاریک ہو گیا اَور بیت المُقدّس کا پردہ پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا اَور یِسوعؔ نے زور سے چِلّاکر کہا، ”اَے باپ! میں اَپنی جان آپ کے ہاتھوں میں سونپتا ہُوں“ اَور یہ کہہ کر دَم توڑ دیا۔ جَب فَوجی افسر نے یہ ماجرا دیکھا، تو خُدا کی تمجید کرتے ہویٔے کہا، ”یہ شخص واقعی راستباز تھا۔“ اَور سارے لوگ جو وہاں جمع تھے یہ منظر دیکھ کر، سینہ کُوبی کرتے ہُوئے لَوٹ گیٔے۔ لیکن یِسوعؔ کے سارے جان پہچان والے اَور وہ عورتیں جو گلِیل سے آپ کے پیچھے پیچھے آئی تھیں، کُچھ فاصلہ پر کھڑی یہ سَب دیکھ رہی تھیں۔
لوقا 26:23-49 ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن (URDGVU)
جب فوجی عیسیٰ کو لے جا رہے تھے تو اُنہوں نے ایک آدمی کو پکڑ لیا جو لبیا کے شہر کرین کا رہنے والا تھا۔ اُس کا نام شمعون تھا۔ اُس وقت وہ دیہات سے شہر میں داخل ہو رہا تھا۔ اُنہوں نے صلیب کو اُس کے کندھوں پر رکھ کر اُسے عیسیٰ کے پیچھے چلنے کا حکم دیا۔ ایک بڑا ہجوم اُس کے پیچھے ہو لیا جس میں کچھ ایسی عورتیں بھی شامل تھیں جو سینہ پیٹ پیٹ کر اُس کا ماتم کر رہی تھیں۔ عیسیٰ نے مُڑ کر اُن سے کہا، ”یروشلم کی بیٹیو! میرے واسطے نہ روؤ بلکہ اپنے اور اپنے بچوں کے واسطے روؤ۔ کیونکہ ایسے دن آئیں گے جب لوگ کہیں گے، ’مبارک ہیں وہ جو بانجھ ہیں، جنہوں نے نہ تو بچوں کو جنم دیا، نہ دودھ پلایا۔‘ پھر لوگ پہاڑوں سے کہنے لگیں گے، ’ہم پر گر پڑو،‘ اور پہاڑیوں سے کہ ’ہمیں چھپا لو۔‘ کیونکہ اگر ہری لکڑی سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے تو پھر سوکھی لکڑی کا کیا بنے گا؟“ دو اَور مردوں کو بھی پھانسی دینے کے لئے باہر لے جایا جا رہا تھا۔ دونوں مجرم تھے۔ چلتے چلتے وہ اُس جگہ پہنچے جس کا نام کھوپڑی تھا۔ وہاں اُنہوں نے عیسیٰ کو دونوں مجرموں سمیت مصلوب کیا۔ ایک مجرم کو اُس کے دائیں ہاتھ اور دوسرے کو اُس کے بائیں ہاتھ لٹکا دیا گیا۔ عیسیٰ نے کہا، ”اے باپ، اِنہیں معاف کر، کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کر رہے ہیں۔“ اُنہوں نے قرعہ ڈال کر اُس کے کپڑے آپس میں بانٹ لئے۔ ہجوم وہاں کھڑا تماشا دیکھتا رہا جبکہ قوم کے سرداروں نے اُس کا مذاق بھی اُڑایا۔ اُنہوں نے کہا، ”اُس نے اَوروں کو بچایا ہے۔ اگر یہ اللہ کا چنا ہوا اور مسیح ہے تو اپنے آپ کو بچائے۔“ فوجیوں نے بھی اُسے لعن طعن کی۔ اُس کے پاس آ کر اُنہوں نے اُسے مَے کا سرکہ پیش کیا اور کہا، ”اگر تُو یہودیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بچا لے۔“ اُس کے سر کے اوپر ایک تختی لگائی گئی تھی جس پر لکھا تھا، ”یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے۔“ جو مجرم اُس کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے اُن میں سے ایک نے کفر بکتے ہوئے کہا، ”کیا تُو مسیح نہیں ہے؟ تو پھر اپنے آپ کو اور ہمیں بھی بچا لے۔“ لیکن دوسرے نے یہ سن کر اُسے ڈانٹا، ”کیا تُو اللہ سے بھی نہیں ڈرتا؟ جو سزا اُسے دی گئی ہے وہ تجھے بھی ملی ہے۔ ہماری سزا تو واجبی ہے، کیونکہ ہمیں اپنے کاموں کا بدلہ مل رہا ہے، لیکن اِس نے کوئی بُرا کام نہیں کیا۔“ پھر اُس نے عیسیٰ سے کہا، ”جب آپ اپنی بادشاہی میں آئیں تو مجھے یاد کریں۔“ عیسیٰ نے اُس سے کہا، ”مَیں تجھے سچ بتاتا ہوں کہ تُو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا۔“ بارہ بجے سے دوپہر تین بجے تک پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا۔ سورج تاریک ہو گیا اور بیت المُقدّس کے مُقدّس ترین کمرے کے سامنے لٹکا ہوا پردہ دو حصوں میں پھٹ گیا۔ عیسیٰ اونچی آواز سے پکار اُٹھا، ”اے باپ، مَیں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں۔“ یہ کہہ کر اُس نے دم چھوڑ دیا۔ یہ دیکھ کر وہاں کھڑے فوجی افسر نے اللہ کی تمجید کر کے کہا، ”یہ آدمی واقعی راست باز تھا۔“ اور ہجوم کے تمام لوگ جو یہ تماشا دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے یہ سب کچھ دیکھ کر چھاتی پیٹنے لگے اور شہر میں واپس چلے گئے۔ لیکن عیسیٰ کے جاننے والے کچھ فاصلے پر کھڑے دیکھتے رہے۔ اُن میں وہ خواتین بھی شامل تھیں جو گلیل میں اُس کے پیچھے چل کر یہاں تک اُس کے ساتھ آئی تھیں۔
لوقا 26:23-49 کِتابِ مُقادّس (URD)
اور جب اُس کو لِئے جاتے تھے تو اُنہوں نے شمعُوؔن نام ایک کُرینی کو جو دیہات سے آتا تھا پکڑ کر صلِیب اُس پر لا دی کہ یِسُوعؔ کے پِیچھے پِیچھے لے چلے۔ اور لوگوں کی ایک بڑی بِھیڑ اور بُہت سی عَورتیں جو اُس کے واسطے روتی پِیٹتی تِھیں اُس کے پِیچھے پِیچھے چلِیں۔ یِسُوعؔ نے اُن کی طرف پِھر کر کہا اَے یروشلِیم کی بیٹِیو! میرے لِئے نہ رو بلکہ اپنے اور اپنے بچّوں کے لِئے رو۔ کیونکہ دیکھو وہ دِن آتے ہیں جِن میں کہیں گے مُبارک ہیں بانجھیں اور وہ رحِم جو باروَر نہ ہُوئے اور وہ چھاتِیاں جِنہوں نے دُودھ نہ پِلایا۔ اُس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شرُوع کریں گے کہ ہم پر گِر پڑو اور ٹِیلوں سے کہ ہمیں چِھپا لو۔ کیونکہ جب ہرے درخت کے ساتھ اَیسا کرتے ہیں تو سُوکھے کے ساتھ کیا کُچھ نہ کِیا جائے گا؟ اور وہ دو اَور آدمِیوں کو بھی جو بدکار تھے لِئے جاتے تھے کہ اُس کے ساتھ قتل کِئے جائیں۔ جب وہ اُس جگہ پر پُہنچے جِسے کھوپڑی کہتے ہیں تو وہاں اُسے مصلُوب کِیا اور بدکاروں کو بھی ایک کو دہنی اور دُوسرے کو بائِیں طرف۔ یِسُوعؔ نے کہا اَے باپ! اِن کو مُعاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں۔ اور اُنہوں نے اُس کے کپڑوں کے حِصّے کِئے اور اُن پر قُرعہ ڈالا۔ اور لوگ کھڑے دیکھ رہے تھے اور سردار بھی ٹھٹّھے مار مار کر کہتے تھے کہ اِس نے اَوروں کو بچایا۔ اگر یہ خُدا کا مسِیح اور اُس کا برگُزِیدہ ہے تو اپنے آپ کو بچائے۔ سِپاہیوں نے بھی پاس آ کر اور سِرکہ پیش کر کے اُس پر ٹھٹّھا مارا اور کہا کہ اگر تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بچا۔ اور ایک نوِشتہ بھی اُس کے اُوپر لگایا گیا تھا کہ یہ یہُودِیوں کا بادشاہ ہے۔ پِھر جو بدکار صلِیب پر لٹکائے گئے تھے اُن میں سے ایک اُسے یُوں طعنہ دینے لگا کہ کیا تُو مسِیح نہیں؟ تُو اپنے آپ کو اور ہم کو بچا۔ مگر دُوسرے نے اُسے جِھڑک کر جواب دِیا کہ کیا تُو خُدا سے بھی نہیں ڈرتا حالانکہ اُسی سزا میں گرِفتار ہے؟ اور ہماری سزا تو واجبی ہے کیونکہ اپنے کاموں کا بدلہ پا رہے ہیں لیکن اِس نے کوئی بے جا کام نہیں کِیا۔ پِھر اُس نے کہا اَے یِسُوعؔ جب تُو اپنی بادشاہی میں آئے تو مُجھے یاد کرنا۔ اُس نے اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ آج ہی تُو میرے ساتھ فِردَوس میں ہو گا۔ پِھر دوپہر کے قرِیب سے تِیسرے پہر تک تمام مُلک میں اندھیرا چھایا رہا۔ اور سُورج کی رَوشنی جاتی رہی اور مَقدِس کا پردہ بِیچ سے پھٹ گیا۔ پِھر یِسُوعؔ نے بڑی آواز سے پُکار کر کہا اَے باپ! مَیں اپنی رُوح تیرے ہاتھوں میں سَونپتا ہُوں اور یہ کہہ کر دَم دے دِیا۔ یہ ماجرا دیکھ کر صُوبہ دار نے خُدا کی تمجِید کی اور کہا بیشک یہ آدمی راست باز تھا۔ اور جِتنے لوگ اِس نظّارہ کو آئے تھے یہ ماجرا دیکھ کر چھاتی پِیٹتے ہُوئے لَوٹ گئے۔ اور اُس کے سب جان پہچان اور وہ عَورتیں جو گلِیل سے اُس کے ساتھ آئی تِھیں دُور کھڑی یہ باتیں دیکھ رہی تِھیں۔